Newsverz

Science ·

سائنسدانوں نے مریخ کے جنوبی نصف کرہ کی گہرائی میں چھپی ہوئی حرارتی بے ضابطگی دریافت کر لی

کشش ثقل کی پیمائشوں کا استعمال کرتے ہوئے ایک نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ مریخ کے جنوبی نصف کرہ کے نیچے کا اندرونی حصہ شمال سے 200 سے 400 ڈگری سیلسیس زیادہ گرم اور جزوی طور پر پگھلا ہوا ہو سکتا ہے، جو سیارے کی مقناطیسیت اور ارضیاتی تاریخ کے بارے میں سراغ فراہم کرتا ہے۔

ذیل میں درج ذرائع سے AI کے ذریعے مرتب کیا گیا۔

سیاروی سائنسدانوں نے مریخ کے اندر ایک بڑی حرارتی تقسیم کی نشاندہی کی ہے، جس میں کشش ثقل کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سیارے کے جنوبی نصف کرہ کے نیچے میٹل شمال سے 200 سے 400 ڈگری سیلسیس زیادہ گرم ہے اور جزوی طور پر پگھلا ہوا ہو سکتا ہے۔ 27 اگست کو نیچر جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کی قیادت الیگزینڈر برن نے کی، جو کیلٹیک سے پی ایچ ڈی کے فارغ التحصیل اور اب ایریزونا یونیورسٹی میں پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق ہیں۔

برن کی ٹیم نے ایک ایسا ماڈل تیار کیا جو ہر مقام پر لینڈر کی ضرورت کے بغیر سیارے کے اندرونی ڈھانچے اور درجہ حرارت کا اندازہ لگانے کے لیے مریخ کے کشش ثقل کے میدان میں معمولی تبدیلیوں کا استعمال کرتا ہے۔ نتیجے میں سامنے آنے والی تصویر ایک ایسی نصف کرہ کی عدم مساوات کی طرف اشارہ کرتی ہے جس نے دہائیوں سے سائنسدانوں کو حیران کر رکھا ہے: مریخ کی پرت، مقناطیسی نشانات، اور یہاں تک کہ اس کی ابتدائی پانی کی تاریخ بھی شمال اور جنوب کے درمیان نمایاں طور پر مختلف ہے، اور اضافی حرارت کی ایک چھپی ہوئی جیب اس کی وضاحت کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ بے ضابطگی جنوبی بلند علاقوں میں لوہے سے بھرپور معدنیات میں ریکارڈ کی گئی غیر معمولی مقناطیسیت سے جڑی ہو سکتی ہے، کیونکہ ایک زیادہ گرم، جزوی طور پر پگھلی ہوئی تہہ سیارے کی تاریخ کے ابتدائی دور میں ایک مضبوط مقامی مقناطیسی میدان برقرار رکھ سکتی تھی۔ ٹیم مزید ماڈلنگ کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا حرارت کا ذریعہ مریخ کے قدیم بنیادی ڈائنمو سے جڑا ہے یا زیادہ مقامی ارضیاتی عمل سے، اور توقع ہے کہ نتائج مستقبل کے مشنز کو سیارے کی زیر زمین تحقیق پر توجہ مرکوز کرنے میں رہنمائی فراہم کریں گے۔

Related articles

Comments

Loading comments...

سائنسدانوں نے مریخ کے جنوبی نصف کرہ کی گہرائی میں چھپی ہوئی حرارتی بے ضابطگی دریافت کر لی